Langri Larki
11 Episodesپراجیکٹ
نمرہ نے آفس کا کام اچھی طرح سمجھ لیا تھا اور اب اس میں بہت ماہر ہو گئی تھی۔ اب وہ امان کو ایسے ایسے ٹپ دینے لگی تھی کہ وہ حیران رہ جاتا۔
امان کو اپنے نئے پراجیکٹ کے سلسلے میں ملک سے باہر جانا تھا۔ اس نے نمرہ اور شاکر کو بھی تیار کر لیا۔
رافعہ نے سنا تو بہت احتجاج کیا، ڈیڈ سے کہا
نمرہ کیوں جا رہی ہے، میں بھی جاؤں گی۔
امان نے اسے آرام سے بیٹھ کر سمجھایا،
میں ایک بہت اہم پراجیکٹ کے سلسلے میں جا رہا ہوں۔ یہ میری زندگی کا خواب تھا کہ یہ مجھے مل جائے۔ اگر یہ مل گیا تو میں سمجھوں گا کہ میرا خواب پورا ہو گیا۔ ابھی اس کی وجہ سے ہم سب مصروف ہیں۔ اس سے فارغ ہو کر تمہیں ورلڈ ٹور پر لے جاؤں گا۔ اپنی پیاری بیٹی کو ڈھیر ساری شاپنگ کراؤں گا مگر ابھی رک جاؤ اور اپنے اچھے وقت کا انتظار کرو۔
رافی تلملا کر رہ گئی اور خاموش ہو گئی۔
نمرہ نے باہر جانے کی تیاری شروع کر دی۔ امان اب اسے تنخواہ کی شکل میں اچھے خاصے پیسے دینے لگا تھا۔ اس نے نئے جوڑے اور جوتوں کی خریداری کر لی تھی اور پاسپورٹ پر ویزے کا انتظار کر رہی تھی اور بالکل نارمل تھی۔ اس کی عادت تھی کہ وہ کبھی بھی خوشی اور غم کا برملا اظہار نہ کرتی بلکہ اس کا چہرہ سپاٹ ہی رہتا۔ اب وہ گھر میں کام والی سے آفس والی بن گئی تھی۔ لیکن پھر بھی آفس سے آ کر وہ ماں کا ہاتھ بٹانے بیٹھ جاتی۔
رافعہ جلن میں اب اسے گھر میں بھی بہت کام لینے لگی تھی اور ذرا دیر ہونے سے وہ اسے خوب ڈانٹ پلاتی۔ وہ اسے جتا جتا کر کام والی کہتی۔ وہ اسے یہ احساس دلانے کی کوشش کرتی کہ جو مرضی کرلو، رہوگی کام والی کی بیٹی۔ چاہے دنیا گھوم آؤ، میری حیثیت تم سے برتر ہی رہے گی۔ وہ ابھی تک کبھی ملک سے باہر نہیں گئی تھی اور نمرہ جا رہی تھی اور وہ بھی شاکر کے ساتھ، اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ اسے اس بات پر ابرار کی بیوی جو اس کی تائی تھی، ہمیشہ اسے شہہ دیتی، ماں روکتی ہی رہ جاتی مگر وہ اس کی سنی ان سنی کر دیتی۔
ایک دن ابرار کی بیوی نعیمہ آئی تو رافعہ نے اسے شکایت لگائی تو وہ رافعہ کو گلے لگا کر نمرہ کو دیکھتے ہوئے بولی
ایرے غیرے نتھو خیرے جارہے ہیں اور میری لاڈو رافی نہ جائے۔
پھر نمرہ کو دیکھ کر دانت پیتے ہوئے بولی
میری جان تو غم نہ کر، بیس دن کی بات ہے تو فکر نہ کر، اسے واپس آنے دے پھر اسے آفس کی نوکری چھڑوا کر کچن کا کام دے دیں گے۔
رافعہ کو تھوڑی تسلی ہوئی۔
نمرہ سب سن رہی تھی اس نے آنکھیں بند کر لیں اور کچن کی دیوار سے سر ٹکا دیا۔ اس طرح کی باتیں سننا اور انہیں کانوں سے نکال دینا بھی اب اس کا روز کا معمول بن گیا تھا۔
ملک سے باہر جا کر نمرہ کو بہت اچھا لگا، کم از کم یہاں اسے طعنے دینے والا کوئی نہ تھا۔ یہ تو الگ ہی دنیا تھی۔ چمک دمک، پررونق شہر، جہاں زندگی جنت لگ رہی تھی۔ ہر چیز صاف ستھری، گندگی کا نام و نشان ہی نہ تھا۔ خوبصورت بلڈنگ، خوبصورت پارک، جس ہوٹل میں وہ ٹھہری ہوئی تھی، ویسا اس نے اپنے خوابوں میں بھی نہ دیکھا تھا۔ صبح اٹھ کر اپنے ہوٹل کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو ایک انتہائی خوبصورت نظارہ نظر آیا۔ وہ اسے دیکھ کر ہی فریش ہو گئی۔
پھر وہ تینوں سر جوڑ کر اپنے پراجیکٹ پر کام کرنے لگے۔ نمرہ نے اپنے ذمے لگائے کام آج جلدی ختم کر دیے اور اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔ اس نے ٹی وی آن کیا اور بیٹھ گئی۔ آج وہ بہت سکون سے ٹی وی دیکھ رہی تھی، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ تھا۔ آج فارغ ہی وہ پہلی بار ہوئی تھی کہ کرنے کو کوئی کام نہیں ہے۔ اس کے گھر میں ایک چھوٹا سا ٹی وی تھا مگر اسے ابا ہر وقت لگائے رکھتا تھا اور اس نے کبھی اس پر دھیان ہی نہ دیا تھا۔ نمرہ خوش تھی کیونکہ اس نے کبھی گھر میں ٹی وی کے چینل تک تبدیل نہیں کیے تھے۔ آج وہ اپنی مرضی سے چینل بدل رہی تھی اور انجوائے کر رہی تھی۔ جب اس کا دل بھر گیا تو اس نے میز پر بڑی کاپی اٹھائی۔ اس کا کچھ لکھنے کو دل چاہ رہا تھا۔ پھر وہ شاعری لکھنے لگی اور خود ہی اپنے اوپر حیران بھی ہوتی رہی۔ اس نے کافی شعر لکھ لیے تھے اور پھر لکھتی گئی، جانے کب اس کو نیند آگئی اور وہ سوگئی۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو کمرے کا دروازے کی گھنٹی بج رہی تھی اور اسے دیر ہو چکی تھی۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھی، ٹائم دیکھا تو لیٹ ہو چکی تھی، جلدی سے دروازہ کھولا تو شاکر سامنے کھڑا تھا۔ سوئی سوئی آنکھیں، بکھرے بال، سادہ کاٹن کی شلوار قمیض میں ملبوس، اس کا کھویا کھویا حسن دیکھ کر شاکر چونک گیا۔ اس نے تو کبھی سر سے دوپٹہ یا حجاب اتارا ہی نہ تھا۔ اسے اس حال میں دیکھ کر وہ بغیر کچھ بولے کھو سا گیا۔ نمره جھینپ گئی۔ اسی وقت، ان دونوں کے کچھ بولنے سے پہلے امان پیچھے پہنچ گیا۔ امان کو دیکھ کر نمرہ نے بھاگ کر دوپٹہ اٹھایا اور اسے اوڑھا اور سر جھکا کر کہا
سوری انکل میں ابھی تیار ہو کر آتی ہوں۔
امان کو اس کا بھاگ کر دوپٹہ اوڑھنا اچھا لگا اور وہ دل میں خوش ہو گیا۔ اس نے سوچا اچھی لڑکیوں کی پہچان یہی ہے کہ وہ بڑوں کو دیکھ کر سر ڈھانپ لیں۔ اس سے بڑوں کو عزت ملتی ہے۔ اس نے ایک دم پوچھا
"بیٹا طبیعت ٹھیک ہے نا"
نمرہ نے سر جھکا کر کہا
"جی"
امان نے کہا
اچھا کام مکمل ہے نا
اسے فکر ہو رہی تھی کیونکہ آج ان کی Project Presentation
تھی۔
نمرہ نے مسکراتے ہوئے کہا
انکل کام بالکل مکمل ہے۔ میں فائل آپ کو دے دیتی ہوں۔
اس نے فائل پکڑائی۔
امان نے خوش ہوکر کہا
شاکر تم وہ فائل لے لو۔ بیٹا ہم نیچے لابی میں تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔“
یہ کہ کر وہ مڑا اور چل دیا۔ شاکر فائل اٹھا کر پیچھے آرہا تھا۔ شاکر کے آج پاؤں بھی صحیح نہ پڑ رہے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کچھ لوگوں کو اللہ میاں نے کتنا حسن دے رکھا ہے اور اس بات کا انہیں خود بھی پتہ نہیں ہوتا ہے۔
آج اس کے دل کی دھڑکن بھی بہت تیز تھی اور وہ گھبرارہا تھا کہ امان انکل کو پتہ نہ چل جائے۔
امان، شاکر اور نمرہ میٹنگ ہال میں پہنچ چکے تھے۔ امان کو پتہ چل گیا تھا کہ اس پراجیکٹ کے لیے بہت سی بڑی بڑی کمپنیوں نے اپنے پروپوزل بھیجے ہیں اور بڑا Tough Competition ہو گا۔
اسے ایک بات کی خوشی تھی کہ جی ایم پاکستانی ہے اور اس سے اردو میں بات ہو سکتی ہے۔ کم از کم اسے سمجھانا آسان ہوگا۔ اس پراجیکٹ کو لینے کے لیے وہ کافی عرصے سے سوچ رہا تھا اور اس کے لیے اس نے بہت محنت کی تھی۔ امان نے بڑی پر اعتمادی سے پراجیکٹ کی فائل جی ایم کے سامنے رکھی اور خود واپس اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ جی ایم نے فائل اٹھائی اور کھول کر پڑھنے لگا۔ چند لفظ پڑھ کر اس نے حیرانگی سے امان کو دیکھا پھر اس کی نظر شاکر سے گھومتی ہوئی نمرہ پر ٹھہر گئی۔ اس نے امان سے کہا
ونڈرفل، بہت اچھی شاعری ہے۔
امان شرمندہ ہو گیا۔ وہ سمجھا کہ جی ایم اس کا مذاق اڑا رہا ہے۔ اس نے گھوم کر شاکر کو دیکھا تو شاکر کو بھی پریشان پایا۔ جی ایم نے پھر کہا
بہت اچھا ذوق ہے اور شاعری بھی خوب ہے۔ میں متاثر ہوا ہوں۔ یہ رومانٹک بھی ہے اور دل کو چھو جانے والی غمزدہ شاعری بھی ہے۔ میں شاعری کا بہت دلدادہ ہوں۔ یہ اشعار کس کے ہیں۔
امان اور شاکر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ باقی تمام لوگ آہستہ آہستہ ہنسنے لگے تھے۔ امان اور شاکر کی طرح نمرہ بھی حیران اور پریشان تھی، پھر اچانک اسے یاد آ گیا
سر یہ میری شاعری ہے اور رات کو ویسے ہی پہلی دفعہ لکھی ہے۔ مجھے نیند نہیں آرہی تھی اور کچھ لکھنے کا دل چاہ رہا تھا۔ اس میں غلطی سے آگئی ہے۔
جی ایم نے مسکراتے ہوئے کہا
اگر یہ فرسٹ ٹائم کی ہے تو تم بہت اچھی شاعرہ بن سکتی ہو۔ آج سے اس پر بھی دھیان دو، میرا اپنا پریس ہے اور میں تمہیں پروموٹ بھی کر دوں گا۔ تمہارا شوق اور ٹیلنٹ کھل کر باہر آئے گا، کسی بھی چیز کو دبا کر نہیں رکھنا چاہیئے۔
پھر وہ امان کو مخاطب کر کے بولا
آپ کی فائل میں نے ایک نظر دیکھ لی ہے، یہ مناسب خیال ہے مگر آپ کی ٹیم ممبر کی شاعری نے مجھے متاثر کیا ہے۔ میں آپ کے ساتھ ڈیل کرنے کر تیار ہوں۔ میں نئے لوگوں کی شاعری کو بہت پسند کرتا ہوں۔ آپ، ان کی شاعری مجھے بھیجتے رہیں۔
پھر جی ایم نے اٹھ کر امان سے ہاتھ ملایا جو ڈیل کا سن کر حیرت زدہ بیٹھا تھا، فوراً اٹھ کر اس سے ہاتھ ملایا کہ کہیں دیر ہونے پر وہ انکار نہ کر دے۔ پھر اس نے شاکر سے ہاتھ ملایا اور مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا۔ اس کے بعد اس نے نمرہ کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔
نمرہ نے اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھ کر اسے سلام کیا، تھوڑا جھک کر اس کی تعظیم کی اور ہاتھ نہ ملایا۔ امان کا پھر رنگ فق ہو گیا کہ نمرہ کی وجہ سے ڈیل ہوئی اور اسی کی وجہ سے ڈیل ٹوٹ نہ جائے۔
جی ایم نے نمرہ سے کہا
بیٹی آپ مجھے بہت اچھی لگی ہو، جو اصولوں کی پکی ہے۔
شاباش، امان کے دل سے نمرہ کے لیے نکلا اور اس نے اطمینان کا سانس لیا۔
جی ایم بہت بڑا بزنس مین تھا اور بہت لوگ اس سے بزنس کرنا چاہتے تھے مگر اسے زیادہ لوگ پسند نہ آتے تھے۔ اس کے ساتھ ڈیل امان کی زندگی کی بہت بڑی کامیابی تھی۔
وہ نمرہ سے بہت خوش ہو گیا تھا۔ اس نے ایک چیک لکھا اور نمرہ کی طرف بڑھا دیا اور ساتھ ہی کہنے لگا
بیٹی اس کو اپنے انکل کی طرف سے انعام سمجھو۔ انکار مت کرنا اور وعدہ کرو کہ تم شاعری کرتی رہوگی۔
نمرہ نے امان کی طرف دیکھا۔ امان نے اثبات میں سر ہلایا تو چیک پکڑ کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وہ چیک پاکستانی روپوں میں دس لاکھ سے اوپر تھا۔
امان بہت خوش تھا۔ باقی دن اتنا کام نہیں تھا لہذا انہوں نے خوب شاپنگ کی، گھومے پھرے اور مزے اڑائے۔ نمرہ کے پاس اب بہت پیسے تھے اس نے اپنی اور باقی سب کے لیے بہت سی چیزیدیں خریدیں۔ اس نے گھر کے ملازموں کے لیے بھی کچھ نہ کچھ خرید لیا۔ شاکر کے ساتھ گھومنا پھرنا، شاپنگ کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ اب تو شاکر بھی بہت مسرور تھا، جیسے اس کے ساتھ ایک پری ہو۔ اسے نمرہ کا لنگڑا کر چلنا اب اچھا لگنے لگا تھا۔
امان کو وہاں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں مگر ایک دوسرے کو کچھ کہتے نہیں ہیں۔ دونوں فاصلے میں رہتے ہیں اور یہاں اتنے دور آ کر بھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتے۔ بات بھی مختصر کرتے ہیں اور کوئی فالتو گپ شپ نہیں۔ امان ان کی ثابت قدمی سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ واپس جاتے ہی ان کی شادی پکی کر دے گا۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.