Langri Larki
11 Episodes
نیا گھر
امان کی کمپنی کے مالک نے ایک دن کہا
میں اس کمپنی کو سیل کرنا چاہتا ہوں۔ جوں ہی مجھے مناسب آفر ملی، میں سیل کر دوں گا۔ میں تم سب کو آگاہ کر دینا چاہتا ہوں، اپنی لیے کوئی نئی جاب تلاش کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ہو سکتا ہے نیا مالک اپنے بندے لے آئے۔
امان نے سب سنا اور سوچنے لگا کہ اس کے تمام پیسے بینک میں محفوظ ہیں۔ پھر کچھ دیر بعد وہ بگ باس کے پاس پہنچا اور اسے آفر کی
میں یہ کمپنی خریدنا چاہتا ہوں"
باس بہت خوش ہوا اور راضی ہو گیا۔ تمام معاملات فائینل کرنے کے بعد اسے سچائی بھی بتادی۔ باس نے مبارک باد دی اور تمام سٹاف کو ایک بار پھر بلا کر کہا
" آج سے یہ آپ کے نئے باس ہیں۔ انہوں نے کمپنی خرید لی ہے"
سب بہت حیران اور خوش ہوئے۔ امان نے کہا
ہاں میں نے یہ کمپنی خرید لی ہے مگر میں یہاں سے کسی کو نہیں نکالوں گا۔ اب یہ آپ کی کمپنی ہے اور میں وہ سب کام کروں گا جو آپ چاہتے تھے اور ہوتے نہیں تھے۔
اب کی بار سب نے زبردست طریقے سے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔ اب تو سبھی میں جیسے اس کمپنی کو کامیاب کرنے کا جذبہ آ گیا اور منافع دگنا ہونا شروع ہو گیا۔
امان نے اب سب اچھا ہونے کے بعد گھر والوں کو بتایا۔ وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ امان نے اپنے دوست کا گھر مکمل کروا دیا اور وہ بھی جلد آنے والا تھا۔ گھر کافی بڑا اور خوبصورت تعمیر ہوا تھا۔ آس پاس کے لوگ بھی اس کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے تھے۔ امان اپنی بیوی کو اپنے دوست کا گھر مکمل ہونے کے دکھانے لایا۔ بیوی بہت شوق سے مختلف حصے دیکھ رہی تھی، بولی
امان آپ نے تمام رقم کمپنی میں لگا دی۔ کاش کچھ بچے ہوتے تو ہم بھی ایسا ہی گھر بنواتے۔ میں اس کمرے کو اپنا بیڈ روم بناتی اور اس کمرے کو بچوں کا کمرہ۔۔۔۔
کہتے کہتے رک گئی اور اداس ہو گئی۔ وہ بے خیالی میں اپنے دل کی بات کہہ گئی۔
امان نے اسے اپنے قریب کر کے پیار سے تسلی دی
نا امید مت ہو، نا امیدی کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مجھے جیسا سوچو گے ویسا ہی پاؤ گے۔ تم دیکھنا، انشاء اللہ تمہاری ساری مرادیں پوری ہوں گی۔
وہ خوش ہو گئی مگر امان کے دل میں بیوی کی اپنے گھر والی خواہش اٹک گئی۔
امان کا دوست اپنا گھر دیکھنے آیا تو دیکھ کر بہت خوش ہوا مگر اسکی بیوی نے منہ بنالیا، بولی
گھر تو بلاشبہ بہت خوبصورت اور جدید طرز کا بنا ہے مگر یہ ایریا بہت بیک ورڈ ہے۔ میں اس ایریا میں بالکل نہیں رہ سکتی۔ اس کو فوراً سیل کرو اور واپس چلتے ہیں۔
امان کے دوست نے امان کو کہا
ا سے جیسے بھی ہو، چاہے انتہائی کم قیمت ہو ، میرے واپس جانے سے پہلے فوراً بیچ دو
یہ کہہ کر وہ دونوں میاں بیوی واپس چلے گئے۔
امان نے اسے خریدنے کے لیے اپنے والد سے مشورہ کیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور بولے
بیٹا میں جانتا ہوں تم کیسے اسے حسرت سے دیکھا کرتے تھے۔ کئی بار میرے دل سے دعا نکلی کہ خدا کرے یہ میرے بیٹے کومل جائے
امان کو امید نہ تھی کہ اس کا دوست اتنی افراتفری میں اونے پونے بیچنے پر اصرار کرے گا کیونکہ اس کی بیوی نے پاکستان میں سیٹل ہونے کا ارادہ کینسل کر دیا تھا اور انہیں اب واپس جانے کی جلدی تھی۔ امان نے انتہائی مناسب پیسے اپنے دوست کو ادا کر کے اسے خرید لیا۔ یہ گھر اس کو بہت سستے داموں مل گیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اس نے اس کی بہترین تزئین و آرائش کی اور گھر میں سب کو شفٹنگ اور پیکنگ کا کہہ دیا۔
بھابھی کو نئے گھر میں جانے کا بہت شوق تھا مگر ابرار کو حسد کی وجہ سے اس گھر سے چڑ ہورہی تھی۔ جب امان نے اسے شفٹ ہونے کے لیے کہا تو اس نے منہ بنالیا۔
اس کے ماں باپ نے بھی جانے سے صاف انکار کر دیا۔ باپ بولا
بیٹا اس عمر میں اس گھر کے سوا دل نہیں لگتا۔ اب عادت پکی ہو گئی ہے۔ اب صرف ایک چھت اور ایک چار پائی بہت کافی ہے۔ رہا سوال ابرار کا تو اس کا ویسے بھی موڈ نہیں ہے۔ اس کی بیوی بےشک جانا چاہتی ہے مگر وہ اسے جانے نہ دے گا اور نہ میں انہیں تمہارے ساتھ ادھر رہنے دوں گا۔ وہ دونوں اور ان کا بچہ اسی گھر میں رہیں گے۔ وہ ساتھ نہیں رہ سکتے۔ وہ تمہارا گھر خراب کر دیں گے۔
امان حیرانگی سے بولا
نہیں بابا وہ میرے ہمدرد ہیں، میرے اپنے ہیں۔ میں یہ کیسے برداشت کروں کہ میں اور میری بیوی ہم اتنے عیش سے رہیں اور میرے بوڑھے والدین اور میرا بڑا بھائی، اس کی فیملی اس چھوٹے سے گھر میں مصیبت میں رہیں۔
باپ نے برا مانتے ہوئے کہا
تم مجھے اور میرے گھر کو اب حقیر سمجھنے لگے ہو۔ کیا تم بہت بڑے آدمی بن گئے ہو؟
باپ زور زور سے چلانے لگا۔ سب شور سن کر آگئے۔ امان کی بیوی پریشان ہوگئی۔
امان نے بے چارگی سے کہا
بابا میرا یہ مقصد ہرگز نہ تھا۔ میں تو چاہتا تھا کہ آپ سب لوگ بھی اس گھر میں رہیں جہاں ایئر کنڈیشن لگے ہیں، سب کچھ ہے۔
امان یہ کہتے کہتے روہانسہ ہو گیا۔ باپ نے پھر دھاڑ کر کہا
تم اب ہمیں اپنی چیزوں کا رعب دکھاتے ہو۔ گنوا رہے ہو کہ تمہارے گھر میں کیا کیا ہے
ابرار نے بھی باپ کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کر دی اور اسے ذلیل کرنے لگا۔
بھا بھی حیران کھڑی خاموشی سے تمام منظر دیکھ رہی تھی۔ اسے نئے گھر میں جانا اب خواب جیسا لگ رہا تھا۔
اس نے ماحول کا تناؤ کرنے کے لیے پینترہ بدلا اور اپنے میاں سے کہا
امان میرے لیے بیٹے جیسا ہے۔ میں اس کا دل نہیں توڑ سکتی۔ میں تو ضرور جاؤں گی اور آپ کو بھی چلنا پڑے گا۔
امان نے بھا بھی کی مکاری کو نہ سمجھتے ہوئے، تشکر بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ ابرار نے گرج کر کہا
” جب بابا نہیں جارہے ہیں تو ہم کیسے انہیں چھوڑ کر جاسکتے ہیں“
ماں نے ابرار کو پیار بھری نظروں سے دیکھا اور بولی
دیکھا کتنا خیال ہے اسے ہمارا اور ایک یہ ہے کہ اتنا بڑا گھر صرف بیوی کو خوش کرنے کے لیے بنوایا
حالانکہ سب جانتے تھے کہ یہ گھر امان نے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے دوست کے لیے بنوایا تھا۔ سب طعنے دے رہے تھے اور امان دکھ سے سوچ رہا تھا کہ اس نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا۔ اس نے تو سب کے لیے ایک اچھی نیت رکھی تھی کہ سب مل جل کر بڑے گھر میں رہیں گے اور اس نے ان کے کمرے بھی سیٹ کروا دیے تھے۔ مگر جو اللہ کو منظور۔
باپ نے امان کو حکم دیا
تم اور تمہاری بیوی اس وقت گھر سے نکل جاؤ اور دوبارہ کبھی ادھر کا رخ نہ کرنا۔
امان باپ کے رویے سے حیران ہورہا تھا کہ کہاں تو ہر مسئلہ میں صلاح دینے والا اور اب خود ہی مسئلہ کھڑا کر رہا تھا۔ اس نے پھر باپ سے التجا کی
میرا مقصد آپ لوگوں کو ناراض کرنا نہیں ہے۔
مگر باپ کا غصہ کم نہ ہوا اور وہ ابرار اور اس کی بیوی کی طرف انگلی اٹھا کر بولا
اسے دھکے دے کر یہاں سے نکالو۔ اس سے جو بھی تعلق رکھے گا۔ اس سے بات کرے گا یا اس کے گھر جائے گا۔ میرا اس سے ہمیشہ کا ناطہ ختم اور میں اسے عاق بھی کر دوں گا۔
امان کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اس کی بیوی نے اس کی بازو پر ہاتھ رکھا تو اسے جیسے ہوش آ گیا اور بولا
چلو
ساتھ ہی باہر کو چل پڑا۔ بیوی بھی روتی ہوئی پیچھے آگئی۔ اپنے گھر پہنچ کر بھی امان کو تسلی نہ ہوئی۔ وہ دونوں تمام رات پریشانی میں جاگتے رہے۔ دونوں کو آج کے واقعے کا یقین نہیں آرہا تھا۔
صبح بیوی نے ناشتہ بنایا مگر اس سے کھایا نہ گیا۔ وہ ابھی تک یہی سوچ رہا تھا کہ آخر بابا کو کیا ہو گیا۔
اتنے میں بھابھی ہاتھ میں پلیٹ لیے اندر آئی اور اندر آتے ہی امان کو آوازیں دینا شروع کر دیں۔
امان بیٹا، امان بیٹا، ہائے! میرا بیٹا پریشان ہو رہا ہوگا۔ ناشتہ بھی نہ کیا ہوگا۔ لو میں تمہارے لیے دلیہ بنا کر لائی ہوں۔
اس نے انکار کیا تو زبردستی چند چمچے کھلا دیے، بولی
خالی پیٹ آفس مت جانا، طبیعت خراب ہوگی۔ میں سب سے چھپ کر آئی ہوں۔ مجھے تمہاری فکر ہو رہی تھی۔
اس نے پیار سے امان کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ بہل گیا۔ امان کی بیوی کچن کو چل دی کہ بھابھی کو چائے بنا کر دے۔ بھابھی نے موقع غنیمت جانا اور امان کو کہا
ابا جی نے مجھے اپنی قسم دی ہے کہ میں تیری ماں کو نہ بتاؤں۔ تیری بیوی نہیں چاہتی تھی کہ ہم لوگ سب ساتھ رہیں۔ میں نے ماں جی کو تو نہیں بتایا مگر تجھے بتارہی ہوں۔ تم اسے کچھ مت بتانا ورنہ ابا جی کا مجھ پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے تم بھی کوشش کرو میں بھی کرتی ہوں۔
امان ہکا بکا اس کی باتیں سن رہا تھا۔ اتنے میں اس کی بیوی چائے لے آئی اور میز پر رکھ کر دوبارہ واپس چلی گئی کیونکہ وہ بقایا دودھ چولہے پر چڑھا کر آئی تھی۔ بھابھی کو پھر موقع ملا بولی
دیکھ لوتمہارا دو گھڑی میرے پاس بیٹھنا بھی، یہ پسند نہیں کرتی۔
امان کو اور یقین ہو گیا۔ وہ پھر بولی
کیسے میرے آنے سے اس کا منہ بن گیا تھا مگر بے غیرت ہو کر آنا پڑا۔ تم فکر نہ کرو میں تمہاری محبت میں آتی جاتی رہوں گی
امان بھابھی کا شکریہ ادا کرنے لگا۔ اس کے آنے سے اسے کافی ڈھارس بندھ گئی تھی۔ آفس کے لیے دیر ہو رہی تھی، وہ باہر نکل گیا۔ بھابھی نے فتح یاب نظروں سے امان کی بیوی کو دیکھا۔ ان خوفناک نظروں سے وہ اکثر ڈر جایا کرتی تھی۔ بھابھی بغیر کچھ کہے واپس چلی گئی۔
امان کی بیوی جتنا میاں کو خوش کرنے کی کوشش کرتی، اتنا وہ اسے جھڑک دیتا۔ اسے بھابھی کی بات یاد تھی۔ ایک دن وہ چھت پر کپڑے پھیلا رہی تھی کہ بھابھی آگئی۔ بھابھی نے اس سے لڑائی شروع کر دی۔ اسے ہر ناجائز باتیں کیں کہ اسے غصہ آئے مگر امان کی بیوی نے ضبط کیے رکھا، نہ اس کی لڑنے کی عادت تھی نہ وہ جواب دیتی تھی بلکہ صبر کر لیتی تھی۔ اب تو بھابھی اسے منہ پر کہنے لگی تھی کہ وہ اسے اس گھر میں میاں کے ساتھ خوش نہیں رہنے دے گی۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.