Langri Larki
11 Episodesماں بن گئی
امان نے بچی کو بھابھی کی گود میں ڈال دیا۔ امان کو اس کے اکیلے جانے سے فکر ہوئی تو اس نے اپنے ڈرائیور کو گاڑی پر اس کے پیچھے بھیج دیا۔ وہاں کسی کو امید نہیں تھی کہ وہ بچی چھوڑ کر چلی جائے گی۔ بچی کے رونے سے امان ہوش میں آ گیا مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس نے بھابھی کو، رانی سنبھالنے کا کہا۔ بھابھی نعیمہ پریشان ہو گئی۔ اسے فوراً اندازہ ہو گیا کہ لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ اس نے رافی کو چُپ کرانے کی کوشش کی مگر وہ اس سے نہیں سنبھل رہی تھی۔ امان نے بھابھی کی مدد کرنی شروع کی مگر رانی نے رات دو بجے تک سب کو جگائے رکھا، ان سب کو تارے دکھا دیے۔ بھابھی نعیمہ اس کے نیپی بدل بدل کر تنگ آگئی۔ اس کی تو جیسے شامت آگئی تھی اور وہاں کی ڈیوٹی لگ گئی تھی۔ امان اسے ایک منٹ بھی رافی سے دور جانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا اور نہ خود اس سے پرے ہورہا تھا۔ ایک رات اور دن امان گھر پر ہی رہا۔ رانی نے سب کو خوب پریشان کیے رکھا۔ امان واش روم گیا تو بھابھی نعیمہ نے ابرار سے کہا
اسے کہو اپنی بیوی کو واپس لے آئے۔ میں اب اور ڈیوٹیاں نہیں دے سکتی۔
ابرار نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کی بیوی یہاں پھنسی ہوئی تھی اور وہ تنگ پڑ گیا تھا۔ امان بھی کافی تنگ تھا۔ اس کے آفس کا حرج ہو رہا تھا۔ آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس کی بیوی کی اس گھر میں کتنی اہمیت اور ضرورت ہے۔
امان نے اپنی بیوی کو فون کیا تو اس نے کاٹ دیا اور پھر اس نے جب جب فون کیا اسے کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ اس کی بیوی نے اپنے گھر جا کر اپنے والدین کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ اس کے والد بہت سمجھدار تھے، بولے
بیٹی تم نے جو بتایا ہے اس کے مطابق تم نے جو کیا وہ ٹھیک ہے مگر تم نے بات کو بڑا کیا تو سزا تمہیں کم اور تمہاری بیٹی کو زیادہ ملے گی۔ اگر امان منانے آئے تو چلی جانا۔ ہم اس سے بات کریں گے کہ وہ آئندہ تم پر ہاتھ نہ اٹھائے اور اس سے وعدہ لیں گے۔
امان کی بیوی بولی
نہیں آپ انہیں کچھ نہ کہیں، وہ بے قصور ہیں۔ ان کی بھابھی بہت تیز ہے، وہ انہیں انگلیوں پر نچاتی ہے اور وہ ناچتے ہیں۔
والد پھر بولے
بیٹا صبر کرو اور اپنے خدا سے مدد مانگو۔ وہ خود ہی ان کی حقیقت امان کے سامنے لا دے گا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے۔ جو کسی کے ساتھ چھپ کر، برائی یا نیکی کرتا ہے، چاہے سالوں گزر جائیں ایک نا ایک دن اس کی نیت میں ظاہر کر دیتا ہے۔
امان نے اپنے سسر کر فون کیا تو وہ نہایت اخلاق سے بولے، وہ شرمندہ ہو گیا۔ انہوں نے اپنی نواسی کا پوچھا اور اسے بتایا کہ وہ اسے بہت یاد کرتے ہیں پھر اسے کہا
رافی کو لے آؤ اور اپنی بیوی کو لے جاؤ۔
خوشی سے اس کی آواز بند ہو گئی۔ وہ بمشکل بول پایا
" کیا وہ میرے ساتھ آ جائے گی"
اس کے سسر پر اعتماد لہجے میں بولے
ہاں! اسے ہم نے سمجھا دیا ہے
امان اتنا خوش تھا کہ اس کا جی کر رہا تھا کہ وہ اٹھ کر ناچنا شروع کر دے۔ اس نے اپنے آپ پر قابو رکھا اور صرف اتنا کہا
سوری انکل، آپ کا شکریہ۔
امان کی بیوی جان بوجھ کر رانی کو چھوڑ آئی تھی۔ اسے امان پر بھروسہ تھا کہ وہ اسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔ وہ ایک دن بچی رکھے گا تو بھابھی اسے خود کہے گی۔ اگر وہ یہ قدم نہ اٹھائے گی تو وہ بھابھی کی باتوں میں آتا رہے گا اور اس پر زیادتیاں کرتا رہے گا۔
امان اپنی بیٹی کو اٹھائے سسرال پہنچا۔ وہ اپنے کیے پر شرمندہ سا تھا۔ سب گھر والوں نے ہمیشہ کی طرح اس کا استقبال کیا۔ نانی نے تڑپ کر رافی کو اٹھایا اور پھر سب حسب معمول رافی کے گرد گھومنے لگے۔
امان کی بیوی چائے کا سامان اٹھائے اندر آئی اسے سلام کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور رافی اٹھا کر کمرے میں چلی گئی۔ امان بہت حیران ہوا، اسے ایسی توقع نہ تھی۔ اسے اپنی بیوی یا کسی اور سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اس موقع پر اس کی ساس نے اس کی مشکل آسان کر دی اور اندر اس کی بیوی کو آواز دی
چلو آجاؤ، امان تیار ہے۔
سبھی اس سے نارمل باتیں کر رہے تھے۔ اتنے میں اس کی بیوی آ گئی اور کھڑے ہو کر اسے دیکھنے لگی۔ اس نے اٹھ کر سب سے اجازت لی اور وہ گھر کی طرف چل پڑے۔ امان خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا۔
گھر بھابھی ایک نئے تماشے کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ اس کی ذراسی تکلیف سے کیسے امان نے اپنی بیوی پر زیادتی کی ساری سرحدیں پار کر دیں تھی۔ وہ بہت فاتحانہ انداز میں بیٹھی امان اور اس کی بیوی کی واپسی کا رستہ دیکھ رہی تھی۔
امان آ گیا، اس کے ساتھ اس کی بیوی اور رانی بھی تھی۔ اس کی بیوی بڑے اعتماد سے آئی اور کمرے میں بیٹھ کر بچی کو سنبھالنے لگی۔ پھر اس کا دودھ بنایا اور اسے لے کر کمرے سے چلی گئی۔ بھابھی نے چسکہ لگاتے ہوئے پوچھا
”بیٹا وہاں کیا ہوا“
کچھ نہیں
امان نے کہا اور اٹھ کر وہ بھی کمرے سے باہر نکل گیا۔
امان کا بھابھی سے بات کرنے کا بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔ جیسی بھی تھی اسے بھابھی بیوی سے آگے نہ تھی۔ وہ اپنی بیوی کو بہت پیار کرتا تھا اور آج اسے دیکھ کر سخت پشیمان تھا۔
اس نے سوچا کہ میں نے اپنی بیوی کو مار مار کر گھر سے نکالا، اس سے اس کی بیٹی چھین لی مگر وہ کتنی عظیم ہے کہ اس نے اپنے گھر والوں کے سامنے اسے ذلیل نہیں کیا اور نہ ہی شرمندہ کیا۔ اب اسے بھی اس سے معافی مانگنے میں شرم نہیں کرنی چاہیے۔
اس نے معافی مانگی تو اس نے ہاتھ پکڑ لیے اور بولی
میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں۔ میں بچی سے زیادہ آپ کو یاد کرتی رہی۔ پلیز اب کبھی مجھے اپنے آپ سے جدا نہ کرنا۔
فرط جذبات سے اس نے امان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
امان نے اسے گلے لگا کر روتے ہوئے کہا
مجھے چھوڑ کر آئندہ کبھی نہ جانا، میں مر جاؤں گا۔
اس چھوٹی سی رنجش نے انہیں اور قریب کر دیا اور ان کا پیار اور بڑھ گیا۔
بھابھی نے انہیں آپس میں ہنستے مسکراتے دیکھا تو دل میں کہا کہ لگتا ہے میرا وار ناکام ہو گیا۔ اس کے دل میں انتقامی آگ اور بڑھ گئی اور وہ سوچنے لگی کہ اگلی دفعہ خوب سوچ سمجھ کر کوئی کاروائی کرنی پڑے گی۔ وہ اب صرف امان کی موجودگی میں آتی اور دبک کر بیٹھتی
جیسے وہ مہمان ہو۔ وہ اب انتہائی معصوم شکل بنا لیتی کہ دیکھنے والے کو ترس آجائے۔ یہ اس کی ماں کے سکھائے ہوئے طریقے تھے۔
امان نے نوٹ کر لیا کہ بھابھی میری بیوی کی وجہ سے کھل کر نہیں بیٹھتی حالانکہ وہ رافی سے بہت پیار کرتی ہے۔ اسے اندر ہی اندر دکھ محسوس ہوتا۔ اب وہ بہت منتوں کے بعد کچھ کھاتی تھی۔ ایک دفعہ امان کو کہنے لگی
بیٹا میں تیری ماں ہوں، اس لیے تیرے گھر آنے پر مجبور ہوں۔ مجھے پتہ ہے میں بے غیرت بن کر آتی ہوں کیونکہ میں اب تیری بچی کے بغیر نہیں رہ سکتی حالانکہ ادھر اب مجھے کوئی پسند نہیں کرتا۔
امان نے بڑے جوش سے کہا یہ آپ کا اپنا گھر ہے، جب چاہے آئیں بلکہ ادھر ہی شفٹ ہو جائیں۔
بھابھی نے فوراً ابرار سے بات کی کہ ہمارے اگلے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ہمارا امان کے گھر میں رہنا ضروری ہے۔ والدین کے انتقال کے بعد امان انہیں کئی بار آفر کر چکا تھا۔
ابرار نے کہا
تم پاگل ہو۔ اگر ہم وہاں شفٹ ہو گئے تو یہ مکان ہاتھ سے چلا جائے گا۔ امان اسے کرائے پر لگا دے گا یا اسے بیچ دے گا۔ پھر ہم کس منہ سے اس سے اس کا کرایہ مانگیں گے۔ ان کے گھر میں ہمیں صرف دو وقت کا کھانا ملے گا۔ یہ سوچو کہ یہ گھر ابھی ہم دو بھائیوں کے نام ہے۔ اسے پہلے اپنے نام کرواتے ہیں۔ یہ بات نعیمہ بھابھی کو سمجھ آگئی۔ اس نے اپنے میاں کے ساتھ مل کر ایک زبر دست چال چلی۔ اس نے اپنے مکان کے کاغذات امان کے سامنے رکھے اور بولی
امان بیٹا یہ مکان جو تم دونوں کے نام ہے، اسے تم اپنے نام کروالو۔ میں تمہیں اور تو کچھ دے نہیں سکتی۔ اپنا حصہ تو دے سکتی ہوں۔
وہ اس کی محبت دیکھ کر پگھلنے لگا، بولا
" آپ کیسی باتیں کرتی ہیں۔ میرے پاس اپنا اتنا بڑا گھر ہے میں کیوں لوں“
وہ اور ابرارمل کر اصرار کرنے لگے تو امان نے دل میں سوچا کہ میرے بھائی اور بھابھی کتنے مخلص ہیں۔ اس نے ان سے کاغذات لے لیے اور اپنے وکیل کو فون کیا اور وہ تمام جائیداد جو باپ کی طرف سے ملی تھی، وہ ابرار کے بیٹے شاکر کے نام کرنے کا کہہ دیا۔ ابرار اور اس کی بیوی نے سنا تو وہ خوش ہو گئے۔ بھابھی نعیمہ نے اپنے دوسرے ایجنڈے پر کام شروع کر دیا۔ وہ امان کی شادی سے پہلے سے اس کی شادی اپنی بھانجی سے کرنا چاہتی تھی مگر اس وقت امان کے والد نہیں مانے تھے اور یہ رشتہ نہ ہوسکا تھا۔
اب دن بدن پھر بھابھی کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ امان کو روز سمجھاتی
تمہاری بیوی اب اولاد پیدا نہیں کر سکتی۔ تمہاری اتنی جائیداد ہے، وارث ضرور پیدا ہونا چاہیے۔ شروع میں ہم یہ شادی خفیہ رکھیں گے۔ وہ گاؤں میں ہی رہے گی۔ اسے کچھ نہ دینا، وہ ایک بےغرض لڑکی ہے، اسے صرف سہارا چاہیے۔ وہ ایک یتیم بچی ہے، باپ سر پہ نہیں اور ماں مجبور ہے۔ شادی سے اس کا بھی بھلا ہو جائے گا اور تمہارا بھی۔
بھابھی کی محبت میں امان پگھلنے لگا اور ہاں کر ہی دی۔
بھابھی کی آنکھیں جھپکنے لگیں۔ اس دن وہ کافی دیر سے گھر پہنچا، دیکھا تو بیوی کی طبیعت سخت خراب پائی۔ اس نے کسی کو نہ بتایا اپنے میاں کو بھی نہیں کہ اس کے کام کا حرج ہو گا اور تمام دن تڑپتی رہی۔ اس نے الٹیاں کر کر کے پورے کمرے میں تعفن پھیلا دیا تھا۔ اپنی طبیعت کی خرابی اس نے بھابھی سے بھی اوجھل رکھی ۔
امان اسے فوراً ہسپتال لے گیا اور اس کی حالت دیکھ کر سخت پریشان ہو گیا۔ کافی دیر کے بعد لیڈی ڈاکٹر آتی ہوئی دکھائی دی اور اسے مسکرا کر مبارک باد دی
”آپ کی بیوی ماں بننے جارہی ہے“
امان کے منہ سے نکل گیا
ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اب یہ ماں نہیں بن سکتی۔
ڈاکٹر نے غصے سے کہا
ایسا کوئی کیسے کہہ سکتی ہے۔ یہ تو بالکل نارمل کیس ہے۔
پھر وہ امان کو حیران کھڑا چھوڑ کر واپس چلی گئی۔
امان حیران تھا کہ بھابھی نے کوئی سو بار اسے لیڈی ڈاکٹر کا حوالہ دیکر کہا تھا کہ وہ اب ماں نہ بن سکے گی اور اس کی دوسری شادی کی بنیاد بھی یہی تھی۔ پھر وہ سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے ڈاکٹر جھوٹ بول رہی ہو، کیونکہ اس کا دماغ بھابھی کی مکاریوں کی وجہ سے، یہ سوچنے سے قاصر تھا کہ وہ اس سے جھوٹ بول سکتی ہے۔
یہ ایک بہت بڑا پرائیویٹ ہسپتال تھا جس میں اس کی بیوی اس وقت ایڈمٹ تھی ۔ وہ ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر کے پاس جا پہنچا اور ان سے اپنی بیوی کے لیے Second Opinion کی درخواست کی ۔ اس نے فورا شہر کی مانی ہوئی ایک اور لیڈی ڈاکٹر مہیا کر دی مگر نتیجہ وہی رہا۔ اس نے بھی اس کی بیوی کا ماں بننا کنفرم کر دیا۔
آج اسے پہلی بار بھابھی پر غصہ آیا کہ جھوٹ بول کر اس کی ایک اور شادی کروانے کے چکر میں تھی، جو اس کے خیالات میں اس کی اپنی بیوی کے ساتھ بہت بڑی زیادتی تھی۔ اس کو اپنے والد کی نصیحتیں یاد آ گئیں۔ اس نے آئندہ گھر کے معاملات میں اپنے کان کھلے رکھنے کا عہد کر لیا۔
امان کی بیوی کی ماں بننے کی خوشخبری سن کر بھابھی کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ اس نے پھر بھی امان پر دوسری شادی پر زور دیا تو امان نے اس کو صاف انکار کر دیا۔
”اب تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا“
بھا بھی نے پھر ایک امید سے کہا
بیٹا تم اسے زبان دے چکے ہو، میں اس رشتے کو پکا کر چکی ہوں، اب اس کا کیا ہوگا۔
امان نے پر اعتماد لہجے میں کہا
آپ کو پتہ ہے میں ابھی اسے ملا بھی نہیں۔ آپ اسے تمام پوزیشن بتادیں، وہ سمجھ جائے گی۔
پھر اس نے جیب سے کچھ نوٹ نکالے اور بھابھی کے ہاتھ پر رکھ دیے اور انہیں دینے کا اشارہ کر کے چلا گیا۔ بھابھی مایوس ہو گئی اور وہ رقم بھی اس نے خود ہی سنبھال لی۔
امان کے گھر بیٹی رافعہ کے بعد بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام امان نے بیوی سے صلاح مشورے کے بعد جاذب رکھا۔ اب اس کی فیملی مکمل تھی۔ وہ اپنی بیوی سے بہت خوش تھا اور اب ہمیشہ اچھے موڈ میں رہتا تھا۔ امان کی بیوی بیٹے کو پا کر بہت خوش تھی۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.