Langri Larki
11 Episodesسازش
امان نے ایک اچھے پرائیویٹ ہسپتال میں اپنی بیوی کی رجسٹریشن کروا دی۔ وہ وہاں باقاعدگی سے چیک اپ کے لیے جانے لگی۔ لیڈی ڈاکٹر نے امید دلائی تھی کہ کیس نارمل ہے اور قوی امکان ہے کہ بیٹی ہو گی۔ امان کو بیٹیاں بہت اچھی لگتی تھیں اور اب وہ اپنی بیوی سے نرم روی رکھتا تھا۔ اگر کبھی بھابھی آکر تیلی لگا دے تو تھوڑی دیر کے لیے بھڑک جاتا، پھر اس پر ترس آنے لگتا۔ دونوں نے مل کر بیٹی کا کمرہ بھی سجانا شروع کر دیا۔
ایک دفعہ ابرار کی بیوی زبردستی اس کے ساتھ ہسپتال چلی گئی اور واپس آکر امان کو شاک دیا۔
ڈاکٹر کہہ رہی تھی کہ آپ ان کی بڑی بھابھی اور ماں کی جگہ ہیں تو میں آپ کو بتاتی ہوں کہ اس کا یہ بچہ پیدا کرنے کا آخری چانس ہے۔ اس کے بعد یہ ماں نہ بن سکے گی۔ اس نے آپ دونوں کو بتانے سے منع کیا ہے مگر میں تمہیں بتارہی ہوں کہ تم میرے لیے بیٹے جیسے ہو۔
یہ سن کر امان کافی دن اداس رہا۔ امان کے گھر نئے مہمان کی آمد پر سبھی بہت خوش تھے۔ یہ دیکھ کر ابرار اور اس کی بیوی کو حسد ہو گیا اور وہ ان کے خلاف سازش کا جال بننے لگے۔
ابرار اور اس کی بیوی آج گھر سے باہر جا رہے تھے۔ بیوی نے طبیعت کی خرابی کا بہانہ کیا تھا اور اسے چیک اپ کے لیے ہسپتال لے جا رہا تھا۔ ابرار جب سرکاری ہسپتال میں ملازمت کرتا تھا، وہاں نوکری تو معمولی تھی مگر اس نے اپنی چرب زبانی سے کافی میل ملاپ بنارکھا تھا۔
ہسپتال میں ہی وہ آیا تھی جو ان کی سازش کے پلان میں برابر کی شریک تھی۔ وہ بھی ابرار کی طرح لالچی اور مکار تھی۔ آج ابرار نے اسے اس آیا سے ملوانا تھا۔ دونوں نے اس سے تمام معاملات طے کیے۔ ابرار کی بیوی کو اپنے جمع شدہ پیسے، جو اس نے سونے کی بالیاں بنوانے کے لیے رکھے تھے، وہ قربان کرنے پڑے۔ اس کے علاوہ انہیں مزید رقم دینے کا وعدہ کیا تب وہ اتنے بڑے اور خطر ناک کام کے لیے راضی ہوئی۔ وہ اپنے میاں کے ساتھ پاس ہی ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لے کر رہ رہی تھی۔ اس کا میاں ڈرائیور تھا۔ اس نے شرط رکھی کہ آپ کے بھائی کے گھر میں جو سرونٹ کواٹر ہے، سنا ہے وہ خالی ہے، مجھے وہاں شفٹ کروا دو۔
ابرار نے یہ کام کرنے کا وعدہ کرلیا۔ انہی دنوں امان کے والد کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ چل بسا۔ اس کے غم میں دوسرے ماہ ماں بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ امان ٹوٹ گیا۔ سبھی کو دکھ ہوا مگر امان کا صدمے سے برا حال تھا۔ کئی دن تک اسے اپنا اور بیوی کا ذرا ہوش نہ رہا۔ انہی دنوں ابرار نے امان کو ایک آیا سرونٹ کواٹر میں رکھنے پر رضامند کرلیا۔
ابرار اور نعیمہ کے لیے یہ اچھا موقع تھا کہ ان کی سازش کامیاب ہوسکتی تهی۔ کیونکہ ان کی سازش تبھی کامیاب ہو سکتی تھی اگر امان اسی سرکاری ہسپتال میں اپنی بیوی کی ڈیلیوری کروائے۔ اس سے پہلے ابرار اور اس کی بیوی کے بار بار کہنے پر بھی وہ سرکاری ہسپتال کے لیے نہیں مانتا تھا۔
اچانک امان کی بیوی کو تکلیف شروع ہو گئی۔ امان آفس گیا ہوا تھا۔ بھابھی نے فوراً ابرار کو بلایا اور اسے لے کر سرکاری ہسپتال چل پڑے۔ امان کی بیوی حیران ہوتی رہی اور ایک دفعہ کہا بھی کہ ادھر نہیں جانا مگر بھابھی نے سنی ان سنی کر دی۔ وہ درد سے کراہ رہی تھی۔ ہسپتال میں ابرار نے اپنے تعلقات استعمال کر کے اس کا داخلہ کروا دیا اور اپنی جاننے والی ڈاکٹر سے مل کر اسے لیبر روم میں بھجوا دیا۔ جب اس کی تمام منصوبہ بندی تکمیل کے مراحل میں آگئی تو اس نے امان کو اطلاع دی۔
میں تمہاری بیوی کو اپنے ہسپتال میں لے کر آ گیا ہوں۔ تمہاری بھابھی بھی اس کے ساتھ ہے، تم فکر نہ کرو۔
امان بھاگا بھاگا ہسپتال پہنچا اور ابرار کو دیکھتے ہی بولا
میں اسے فورا پرائیویٹ ہسپتال میں شفٹ کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں کیس نہیں کرانا ہے
مگر ابرار نے اس کی ایک نہ چلنے دی۔
اب یہاں سے لے جانا خطرناک ہے۔
وہ مجبور ہو گیا اور دل میں بیوی کی سلامتی کی دعائیں کرنے لگا۔ اسے بیوی سے بہت پیار تھا۔ اس وقت اسے بچے کی خوشی بھی بھول گئی۔ اس نے سوچا کہ اگر بچہ زندہ رہا اور بیوی کو کچھ ہو گیا۔ یہ سوچ کر ہی اسے جھر جھری سی آگئی کہ اس کے بغیر جی کر کیا کرے گا۔ پہلی بار اسے اپنی بیوی کھونے کا شدید ڈر لگا۔
ابرار کی بیوی مسلسل امان کے پاس بیٹھی رہی اور تسلیاں دیتی رہی، نہ خود اٹھی اور نہ اسے اٹھنے دیا، مبادہ ابرار کی بھاگ دوڑ اور سازش کا پتہ نہ چل جائے۔ وہ دل میں خوش ہوتا رہا کہ بھابھی کو میرا کتنا خیال ہے اور آج تو بھائی بھی ادھر ادھر چیزیں پوری کرنے پریشانی میں بھاگ رہا ہے۔
ان کی سازش کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا تھا۔ وہ آیا کو ساتھ لایا جو بھابھی کو بلا کر لے گئی۔
امان نے پوچھا تو ابرار ٹال گیا اور اس کے پاس بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔ اسے ایک گھنٹہ سے زائد باتوں میں الجھائے رکھا۔ اتنے میں اس کا اپنا ہی خریدا ہوا وارڈ بوائے، ایک بچہ گود میں اٹھائے جلدی سے آیا۔ ابرار نے چہرہ دیکھا تو وارڈ بوائے نے بتایا کہ بچہ مرا ہوا ہے اور بولا
جناب یہ آپ کی بھتیجی ہے۔
امان کو چکر سا آگیا۔ ابرار نے جلدی سے اسے اپنی جیب سے چند روپے نکال کر دیے۔ وہ واپس مڑا اور چلتا بنا۔
امان رو رہا تھا اور شدید غم سے نڈھال تھا۔
ابرار نے پیار سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنا تیر چلایا۔
مجھے پتہ چل گیا تھا مگر بتانے کی ہمت نہ تھی۔ تمہاری بیوی کی حالت خراب تھی اور اسے خون کی شدید ضرورت تھی۔
اس کی بات سن کر اس نے جھٹ مڑ کر دیکھا۔ اسے اپنی بچی بھول گئی اور بیوی کی پڑ گئی، بولا
میں ابھی فون کرتا ہوں۔ اسی ہسپتال میں بلڈ بینک میں۔۔۔۔۔
ابرار نے جلدی سے اس کی بات کاٹ دی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا
وہ تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تمہاری بھابھی نعیمہ خون دینے گئی ہے۔ بھلا جب اس کے خون کا گروپ مل رہا ہے تو کسی غیر کا کیوں لگنے دیں۔
اتنے میں بھابھی کو آیا پکڑ کر لائی اور اس نے نقاہت بھرے انداز میں مکر کرتے ہوئے کہا
ڈاکٹر نے خوشخبری سنائی ہے کہ وہ اب خطرے سے باہر ہے
پھر وہ امان کے گلے لگ کر رونے لگی، وہ بھی رونے لگا۔ ابرار نے اس کو کہا
اسے نہ رلاؤ، اب اس مسئلے کا حل سوچو کہ امان کی بیوی کو کیسے بتایا جائے، وہ تو غم سے مر جائے گی۔
نہیں۔
امان نے کہا اور اپنا سر پکڑ لیا اور بیٹھ گیا۔ پھر اپنی ہمت دوبارہ جمع کر کے بولا
اسے ابھی کچھ مت بتانا۔ آہ، یا اللہ اب میں کیا کروں۔ کچھ کرو کہیں سے کوئی بچی مل جائے تو اس کی گود میں ڈالو۔
امان نے التجا بھری نظروں سے ابرار اور اس کی بیوی کو دیکھا اور دوبارہ سر پر ہاتھ رکھ کر جھک گیا۔ یہ بات سن کر ابرار اور اس کی بیوی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ دونوں نے اپنی رچی ہوئی سازش کی پہلی کامیابی کی خوشی مناتے ہوئے ایک دوسرے کو فاتحانہ نظروں سے دیکھا۔ ان کا کام اب اور بھی آسان ہو گیا تھا۔ بھابھی نے اٹھتے ہوئے کہا
ادھر آیا کسی لاوارث بچی کا ذکر کر رہی تھی۔ میں جا کر دیکھتی ہوں
امان نے فورا سر اٹھایا اور کہا
جلدی کرو اور پیسوں کی فکر نہ کرنا
امان پھر رونے لگا اور اپنی بچی کے بارے میں پوچھنے لگا تو ابرار نے کہا
میں نے اسی آدمی کی ڈیوٹی لگا دی تھی کہ وہ کفن دفن کر لے۔ مردہ بچی کا جنازہ نہیں ہوتا تم فکر نہ کرو، وہ کرلے گا۔
امان نے ایک دم کھڑے ہوتے ہوئے کہا
میں اپنی بچی دیکھنا چاہتا ہوں، بتاؤ وہ کہاں ہے
ابرار پریشان ہو گیا اورسوچ کر بولا
نعیمہ کو آنے دو پھر چلتے ہیں۔
امان اٹھ کر وہیں ٹہلنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد بھابھی تیز تیز آتی دکھائی دی۔ پاس پہنچ کر بولی
وہ ایک آیا ہے اور بڑی مشکل سے مانی ہے۔ کہتی ہے کہ کوئی ایک بچی کو پیدا کر کے اس کے حوالے کر گیا ہے مگر ابھی وہ بہت کمزور ہے۔ ابھی مشین میں رکھی ہے اور ایک دو دن شاید رکھنی پڑے۔ اس کے لیے کاغذی کاروائی بھی کرنی پڑے گی۔
امان بولا
" مجھے منظور ہے"
ابرار بول پڑا
میں اس ساری کاغذی کاروائی کو خود ہی دیکھ لوں گا۔ تم یہ مجھ پر چھوڑ دو۔
امان مطمعین ہو گیا اور پوچھا
رانی کیسی ہے۔
وہ پیار سے اسے رانی پکارتا تھا جس کو سن کر بھابھی کو بہت جلن ہوتی تھی۔ اس کے منہ سے رانی کا سن کر جیسے بھابھی کا منہ کڑوا ہو گیا۔ وہ دوسری طرف منہ کر کے پہلے منہ بنایا پھر بولی
وہ ابھی ٹھیک ہے۔ تم اسے شام کو ملنا ورنہ وہ تمہارا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر سمجھ جائے گی کہ کچھ ہوا ہے۔ تم گھر جاؤ، صدقہ وغیرہ دو۔ میں اسے بہانہ کر دوں گی کہ تم شہر سے باہر گئے ہو اور تمہیں کچھ نہیں بتایا ہے کہ تم خوشی سے کوئی حادثہ نہ کر دو۔
امان ان کی باتوں میں آتا جا رہا تھا اور ان کی جھوٹی محبت کے جال میں پھنس رہا تھا۔ نعیمہ بولی
تم فکر کیوں کرتے ہو میں جو اس کے ساتھ ہوں۔
ٹھیک ہے
امان نے کہا، حالانکہ وہ اندر سے تڑپ رہا تھا۔ سوچ سوچ کر دکھی ہو رہا تھا مگر شکر ہے، دوسری بچی کا بندوبست ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ اس نے ابرار اور بھابھی نعیمہ کا بہت شکریہ ادا کیا اور بھابھی کو کہا
آپ آرام کریں، میں کسی نرس کی ڈیوٹی لگا دیتا ہوں، آپ نے ابھی ابھی خون دیا ہے
وہ مکاری سے مسکراتے ہوئے بولی
میرے خون دینے سے اس کی زندگی بچ گئی ہے، اس خوشی میں، میں اور تندرست ہوگئی ہوں۔ اب تم مجھ سے وعدہ کرو کہ اس بچی کو اپنی بچی کی طرح پالو گے کسی پر ظاہر نہ ہونے دو گے نہ پیار میں کمی رکھو گے۔
وہ وعدے کرتا رہا اور پھر غمزدہ رخصت ہو گیا۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.