Langri Larki
11 Episodes
لنگڑی آئی
بھابھی کی مداخلت گھر میں کافی کم ہوگئی تھی مگر اس نے ہمت نہیں ہاری تھی اور اس کی سیاستیں اور مکاریاں جاری تھیں۔ پہلے وہ امان کی بیٹی رافی کو بہت کم اٹھاتی تھی مگر اب اس نے روٹین بدل دی تھی اور اس پر اب بہت زیادہ پیار کا حق جتانے لگی تھی۔ شروع میں امان کی بیوی کو برا لگا مگر جب اسے اپنے بیٹے جازب کے آنے کے بعد جب اسے دو بچے سنبھالنے پڑے تو اس نے بھابھی کے آنے پر رافعہ کو اسے سونپ دیتی۔ بھابھی لگتا تھا رافی سے بہت پیار کرنے لگی تھی۔ رافی بھی اپنی تائی سے بہت مانوس ہوتی جا رہی تھی۔ وہ اب تائی کے آتے ہی اس کے پاس بھاگ کر آ جاتی۔ اس کے ہاتھ سے کھاتی، کپڑے بدلواتی اور اس کے لیے روتی تھی اور اپنی آیا کے پاس بھی نہ جاتی۔ بھابھی امان کے سامنے خاص طور پر اس کے سارے کام کرتی تھی۔
امان کے گھر کواٹر میں رہنے والی آیا نے اپنی بیٹی کا نام نمرہ رکھا تھا۔ اس کی ٹانگ میں بچپن سے ہی کوئی نقص تھا جس کی وجہ سے اسے سیدھا چلنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ وہ رافعہ کی ہم عمر تھی اور ماں کے ساتھ کام میں بھی مدد کرتی تھی۔ نمرہ گوری چٹی اور خوبصورت لڑکی تھی۔ وہ خاموش طبع اور سلجھی ہوئی تھی۔ اسے پڑھنے اور ہر چیز سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اس کے مقابلے میں رافعہ پتلے پتلے نقوش والی، نازک سی شوخ و شریر لڑکی تھی۔
رافی کمپیوٹر کے آگے بیٹھی تھی اور اس سے چار سال بڑا شاکر اسے کمپیوٹر سکھارہا تھا۔ رافی کے ساتھ نمرہ بھی دیکھ رہی تھی۔ جہاں رافی اٹکتی تھی شاکر کے اسے کچھ بتانے سے پہلے نمرہ اسے بتا دیتی۔ جب یہ بار بار ہونے لگا تو رافی نے نمرہ کو پکا اپنے ساتھ کمپیوٹر پڑھائی میں رکھ لیا۔ نمرہ جس نے ابھی تک اسکول بھی نہ دیکھا تھا وہ جب رافی کا ٹیوٹر آتا وہ اس کے ساتھ بیٹھ جاتی اور بغیر کچھ لکھے وہ اس کے سبق سمجھ جاتی اور بعد میں رانی کی مدد کرتی۔ امان کی بیوی نے اس کا شوق دیکھا تو ٹیوٹر کو اسے بھی باقائدہ پڑھانے کا کہہ دیا۔
نمرہ کا دماغ بہت چلتا تھا۔ اسکول نہ جانے کے باوجود وہ ٹیوٹر ہی کی مدد سے پڑھائی میں رافی سے ہمیشہ آگے رہی اور ساتھ ساتھ کمپیوٹر میں بھی ماہر ہو گئی۔ اسے نئے نئے کھانے پکانے کا بھی بہت شوق تھا اور یہ بات امان کی بیوی کو بھی بہت اچھی لگتی تھی اور اسی لیے کھانے پکانے میں بھی اسے کافی آزادی حاصل ہو گئی تھی۔ کھانے کا سامان ضائع ہونے پر بھی وہ اسے منع نہ کرتی بلکہ بہتری لانے کے لیے وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتی۔
امان کی بیوی نے نمرہ کا پڑھائی میں شوق اور ذہانت دیکھ کر اسے رافعہ کے ساتھ آٹھویں کا بورڈ کا امتحان دلوایا۔ کبھی اسکول کا منہ نہ دیکھنے کے باوجود اس نے بہت اچھے نمبر حاصل کیے۔ امان اور اس کی بیوی دونوں نے مشورہ کر کے اسے بھی رافعہ کے ساتھ پڑھائی میں ڈال دیا اور اس کے تمام اخراجات بھی اٹھانے لگے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے رانی کو گھر بیٹھے پڑھائی میں بہت مدد ملنے لگی تھی۔ نمرہ نے آگے جی توڑ کر محنت کی اور میٹرک میں بورڈ میں پوزیشن لے لی اور یہ ثابت کر دیا کہ امان اور اس کی بیوی کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔ امان کے دفتر میں اس کی سیکرٹری ایک دم چھوڑ کر چلی گئی اور اسے مشکل میں ڈال دیا۔ اسکے بہت سے کام کھلے ہوئے تھے اور ابھی اس کے پاس ایڈروٹائز کر کے انٹرویو کرنے کا وقت نہیں تھا۔ اس نے ویسے ہی شام کو آکر بیوی سے ذکر کیا تو اس کی بیوی نے فوراً کہا
" کچھ دن کے لیے نمرہ کو لے جاؤ"
وہ بہت حیران ہوا اور پھر سوچ میں پڑ گیا۔ پھر اس نے نمرہ اور اس کی ماں کو بلایا اور ان کی رائے مانگی۔
نمرہ بہت خوش ہوئی اور جھٹ راضی ہو گئی۔ اس کی ماں کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوا۔ اگلے دن نمرہ نے سیکرٹری کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ نمرہ میں یہ بھی خوبی تھی کہ وہ اپنا ہر کام شوق اور لگن سے کرتی تھی۔ اس میں اتنا اعتماد تھا کہ وہ کسی کام سے نہ گھبراتی تھی۔
شاکر کو اس کے چچا امان نے پڑھائی میں فل سپورٹ کیا تھا۔ وہ بھی پڑھائی میں بہت سنجیدہ رہا، اسی لیے ابھی تازہ انجینئر بن کر نکلا تھا۔ امان نے اسے بھی اپنے دفتر میں رکھ لیا۔
شاکر کا چھوٹا بھائی ذاکر تھا، جو شاکر سے دو سال بعد بھابھی سے غیر متوقع طور پر پیدا ہو گیا تھا کیونکہ وہ مزید بچوں کی قطعی طلب گار نہیں تھی مگر پھر ابرار نے اسے منا لیا۔ اسے اپنے بچوں سے زیادہ سیاست اور چالاکیوں سے دلچسپی تھی۔ اس لیے وہ رافعہ کو ہر وقت چمٹائے رکھتی تھی۔ ذاکر، جسے وہ پیار سے کوڈو کہتی تھی، کے آنے سے وہ اپنے گھر میں کچھ مصروف ہوئی تھی مگر اس نے پھر بھی رافعہ کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ اس طرح کرنے سے اسے کچھ فائدے بھی ملتے تھے مثلاً کھانے پینے کی بے بہا چیزیں، سوٹ وغیرہ۔
شاکر شروع ہی سے زیادہ اپنے چچا اور چچی (امان اور اس کی بیوی) کے زیر اثر رہا مگر ذاکر کوڈو نے، اپنی ماں کے ساتھ کو سب سے زیادہ ترجیح دی کیونکہ اسے یہاں فالتو پیسے اور مرضی کرنے کے مواقع زیادہ ملتے تھے۔ شاکر جتنا سنجیدہ اور سلجھا ہوا تھا، ذاکر کوڈو اتنا ہی باپ کے نقش قدم پر تھا، پڑھائی سے جی چرانا، آوارہ گردی اور لالچ کرنا۔ وہ ماں کی شہہ پر چھوٹی عمر سے ہی دھوکہ دینا سیکھ گیا تھا۔ امان کے گھر سے کچھ منگوایا جاتا تو ماں کا اسے حکم تھا کہ دس روپے کی چیز بیس روپے کی بتاؤ۔ کوڈو نے اپنی پڑھائی مکمل نہ کی اور دس جماعتیں بھی پاس نہ کر سکا۔ پڑھائی چھوڑ کر آوارہ گردی کرنے لگا۔ پھر کچھ دن جب گاؤں رہ کر آیا تو وہاں اپنی خالہ کی بیٹی، جو بہت تیز ترار تھی، سے شادی کی ضد کرنے لگا۔ اسے ابرار اور اس کی بیوی نے بہت سمجھایا کہ شاکر تم سے بڑا ہے اور اس کی شادی سے پہلے، تمہاری شادی مشکل ہے بلکہ ہماری جگ ہنسائی ہے۔
کوڈو اس بات پر ناراض ہو کر چلا گیا اور جا کر اس لڑکی سے نکاح پڑھوا لیا۔ خالو نے فون پر تمام واقعہ سنایا کہ اس کی جیب میں نیند کی گولیاں تھیں اور اس نے خودکشی کی دھمکی دی تھی کہ اگر میرا آج ہی نکاح نہ کیا یا میرے والدین کو بتایا تو میں اپنا آپ یہیں ختم کر لوں گا۔
بھابھی نعیمہ اب بہت محتاط ہو گئی تھی۔ اپنے دوسرے بیٹے کی پیدائش کے بعد بہت اتراتی پھرتی اور اسے کہتی
ایک بیٹے کا کیا مان، میرے تو دو بیٹے ہیں۔ ایک کی بیوی اچھی نہ ہو تو دوسری بہو کے پاس چلے جاؤ۔ یہ بھی خدا کسی کسی کو دیتا ہے۔
امان کی بیوی بھی گھر میں اب اس کی اتنی دال گلنے نہیں دیتی تھی مگر موقع ملتے ہی اسے طعنے ضرور ملتے تھے۔
امان کی بیوی سب سمجھتی تھی۔ اس کا اس طرح کی باتیں سن کر دل بہت کڑھتا تھا مگر کیا کر سکتی تھی اور خدا پر چھوڑ دیتی تھی۔ وہ اب صرف اس کے سدھرنے کی دعا کرتی تھی۔
اسی اثنا میں کوڈو اپنی نئی نویلی بیوی کو گھر لے آیا۔ وہ رشتے میں بھابھی نعیمہ کی بہن کی بیٹی تھی۔ اس نے آتے ہی ساس کو تارے دکھا دیے۔ اس کی گز بھر لمبی زبان تھی اور کسی کا لحاظ نہیں کرتی تھی۔ اس نے اپنے میاں کو ایسے قابو کیا ہوا تھا کہ وہ اس کے سامنے بھی نہ بول سکتا تھا۔ اسے اپنے سسرالیوں پر بہت غصہ تھا کہ وہ اس کی دھوم دھام سے برات کیوں نہیں لائے اور اسے صرف نکاح کر کے اور میاں رخصتی کرا لایا۔ وہ بات بات پر ساس پر خوب طعنے کستی رہتی اور اس کا جینا تک حرام کیا ہوا تھا۔
اس کے آنے کے بعد بھابھی نعیمہ کو احساس ہوا کہ طعنے پر کتنا دل دکھتا ہے اور اس نے کتنا امان کی بیوی کا دل دکھایا ہے۔ امان کی بیوی کا رویہ ہمیشہ اس سے اچھا رہا۔ وہ خلوص سے اس سے ملتی اور مدد کرتی رہی۔ یہ امان کی بیوی ہی تھی جس کی وجہ سے ان کے بڑے بیٹے نے اعلی تعلیم حاصل کی اور کسی قابل بنا۔
ابرار کا بڑا بیٹا شاکر بہت قابل تھا۔ اس کا چچا امان اسے بہت سراہتا تھا اور اس پر مکمل اعتماد کرتا تھا۔ اس نے شاکر کو مختلف موقعوں پر آزما لیا تھا کہ اس کے اندر قوت فیصلہ بہت مضبوط ہے اور یہ اپنے کام بڑے احسن طریقے سے پورے کرتا ہے۔
رافعہ شاکر کو بہت پسند کرتی تھی مگر اسے پتہ تھا شاکر نمرہ سے بہت متاثر ہے۔
نمرہ اپنی اوقات خوب جانتی تھی۔ وہ شاکر کو پسند کرتی تھی مگر دھیان نہ دیتی۔ اسے شاکر نے کبھی کچھ کہا نہ تھا مگر اسے اندازہ تھا کہ وہ اس کے لیے اچھے جذبات رکھتا ہے۔ مگر چونکہ اسے رافعہ کے جذبات بھی معلوم تھے اس لیے وہ رافعہ کا شاکر پر اس کا حق سمجھتی تھی۔ نمرہ سوچا کرتی تھی کہ وہ میرا نہیں ہے اور نہ میرا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ایک تو میں ادھوری ہوں اور دوسرے میں تو فقط ایک آیا کی بیٹی ہوں۔ وہ ادھوری اس طرح تھی کہ اس کے دونوں پاؤں ٹھیک تھے مگر ٹانگ ٹیڑھی ہونے کی وجہ سے چلنے میں دشواری تھی۔
ابرار اور اس کی بیوی آیا کے کواٹر جا کر اسے احساس دلاتے رہتے کہ نمرہ ان کی ہے مگر یہ نہ کہتے کہ رافعہ تمہاری ہے۔ صرف یہ کہتے کہ وہ جنت میں پل رہی ہے اور ہم نے تم پر یہ احسان کیا ہے۔ آیا جواب میں بس خاموش رہتی۔
امان کا بیٹا جازب بڑا ہور ہا تھا۔ اسے بچپن ہی سے نمرہ بہت اچھی لگتی حالانکہ وہ اس سے بڑی تھی۔ وہ اسے گھر میں آتے جاتے کام کرتے دیکھتا رہتا۔ اس نے جب بھی اس سے فری ہونے کی کوشش کی، نمرہ نے مسکراتے ہوئے اسے ٹال دیا۔ وہ اسے جواب نہ دیتی اور نہ فری ہوتی۔ جاذب اسے پیار سے کبھی ڈارلنگ کبھی سویٹ ہارٹ اور کبھی دیگر رومانٹک ناموں سے پکارتا مگر نمرہ جواب میں ہلکا سا مسکرا دیتی اور بس چل دیتی۔ اس پر اور اس کی فیملی پر امان صاحب کے بہت احسانات تھے اور وہ یہ جانتی تھی۔ اب وہ روزانہ امان اور شاکر کے ساتھ گاڑی میں آفس جاتی اور بہت عمدہ طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھارہی تھی۔ شاکر بھی چچا ساتھ اسی گاڑی میں آفس جاتا تھا۔
رافی کو نمرہ کا آفس میں کام کرنا پسند نہ آیا۔ وہ شاکر کے قریب رہنا چاہتی تھی مگر اس کے ساتھ نمرہ کو دیکھ کر اسے جلن ہوتی تھی حالانکہ نمرہ شاکر سے آفس میں فالتو بات بھی نہ کرتی تھی۔ شاکر بھی عقل مند تھا اور اس نے نمرہ کا اس کے ساتھ آنے جانے پر کبھی فائدہ نہیں اٹھایا تھا۔ وہ کسی اچھے اور مناسب وقت کا انتظار کر رہا تھا۔
امان نے نمرہ کو عارضی طور پر آفس میں رکھا تھا، مگر وہ بہت اچھا کام کر رہی تھی۔ سب کام بھی اس نے بہترین سنبھالے ہوئے تھے اور سٹاف بھی اس سے خوش تھا۔ نمرہ گھر میں امان کو انکل کہتی تھی، آفس جا کر اس نے انہیں سر کہا تو امان نے اس کو سر کہنے سے منع کر دیا اور انکل ہی کہنے کو کہا۔ باقی سٹاف بھی اسے امان کا قریبی عزیز سمجھ کر بہت عزت کرتا۔ نمرہ اب امان کے آفس کا کچھ کام گھر پر بھی کر دیتی۔ جس سے اسے کافی مدد مل جاتی اور وہ اب نمرہ کو گھر میں بھی بہت اہمیت دینے لگا۔ آفس میں کام کرتے ہوئے نمرہ نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور ایف اے کے بعد بی اے بھی کر لیا۔
رافعہ نے نمرہ کی گھر میں قدر کے اضافے کو فورا محسوس کر لیا اور اسے اس پر بہت غصہ بھی آیا۔ وہ اب سوچنے لگی تھی کہ ڈیڈ اب گھر آکر مما سے نمرہ کی تعریفیں کرنے لگے ہیں۔ جازب بھی اس کے آگے پیچھے پھرتا ہے۔ شاکر بھی اس کی بہت عزت کرتا ہے حالانکہ اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے بلکہ وہ تو لنگڑی لڑکی ہے۔ وہ بچپن میں اسے کبھی کبھی ذلیل کرتی تھی مگر اب تو اسے بہت زیادہ کہنے لگی تھی۔ ماں ٹوکتی تو اسے صاف کہہ دیتی لنگڑی کو لنگڑی نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے۔ اسے ابرار کی بیوی بھی اس بات پر بہت شہہ دیتی تھی۔
نمرہ نے پلٹ کر اسے کبھی جواب نہیں دیا تھا۔ اسے دل میں دُکھ محسوس ہوتا مگر وہ صبر کر جاتی۔ وہ تو بچپن سے ہی ایسی باتیں سنتی آئی تھی اس لیے عادت پڑ گئی تھی۔ اس نے بچپن سے کجھ لیا تھا کہ کچھ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور کچھ ترس کھاتے ہیں۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.