Logo
Langri Larki
11 Episodes
Langri Larki EP 3
Episode 3

قدرت کا قانون

Langri Larki


قدرت کا قانون


ابرار نے واضع الفاظ میں اپنی بیوی کو بتا دیا تھا

ہم کسی صورت امان کے ساتھ اس کے گھر میں شفٹ نہیں ہو نگے۔ اگر والدین جانا چاہتے ہیں تو بےشک جائیں۔  

بھابھی کو والدین سے بہت فائدہ ملتا تھا۔ سسر کی پنشن تھی اور ساس گھر چلاتی تھی۔ وہ امان سے بھی خرچہ لیتی رہتی، اس لیے بھابھی کو گھر کے خرچے کا سکون تھا۔ وہ ہر حال میں ساس اور سسر کو ساتھ رکھنا چاہتی تھی۔ سسر تو اس کی چالیں خوب سمجھتا تھا مگر ساس بھولی تھی۔ وہ بہو کی میٹھی باتوں میں آتی رہتی۔ وہ اسے بہت اچھا سمجھتی تھی اور ہر وقت اس کی تعریفیں کرتی رہتی۔ ابرار کی بیوی، امان کی بیوی کی جھوٹی باتیں لگا کر بتاتی اسی لیے وہ اس سے بدزن رہتی۔ یہ سب امان بھی دیکھتا رہا تھا اسی لیے وہ بھی اپنی بیوی کی ایک نہ سنتا اور اس کی بات بے بات پر بےعزتی  کرتا رہتا۔

امان کی بیوی کو خدشہ تھا کہ کہیں امان اپنے ماں باپ کو منا کر نہ لے جائے۔ اس نے ساس کے سامنے جھوٹے آنسو بہا بہا کر انہیں جانے سے روکنے کی کوششیں پہلے ہی شروع کردیں، 

میں آپ کے بغیر ایک منٹ نہیں رہ سکتی۔ میں ماں کے بغیر رہ سکتی ہوں مگر آپ کے بغیر نہیں۔  

ماں جو پہلے امان کے نئے گھر جانے کا نیم ارادہ رکھتی تھی، وہ بھی کینسل کر دیا اور پیار سے اسے گلے لگا کر بولی

میں بہت خوش قسمت ہوں جو تجھ جیسی بہو ملی۔

بھا بھی نے روزانہ شام کو ساس کی ٹانگیں دبانا شروع کر دیں۔ وہ روزانہ رات کو آتی اور میاں کے کہنے پر بھی ناغہ نہ کرتی۔ ابرار اس بات پر اس سے کافی خوش تھا کہ یہ میری ماں کی خدمت کرتی ہے۔ ساس یہ بات فخر سے سب کو بتاتی کہ مجھے ایسی بہو ملی ہے جو میری بہت خدمت کرتی ہے۔ ساس بوڑھی تھی اور اس کی یاداشت بھی کم ہوتی جارہی تھی، اس لیے بھابھی روزانہ جاتی، ایک تو اسے یاد کراتی کہ میں بہت خدمت گزار ہوں اور دوسرے امان کی بیوی کی خوب برائیاں کرتی۔

امان اب نئے گھر میں سیٹ ہونے لگا تھا۔ بھابھی نعیمہ اب اکثر آنے لگی تھی۔


امان کے والد کو ابرار کے بیوی کے آنے جانے کا پتہ چلا تو وہ سمجھ گیا کہ وہ انہیں خوش نہ رہنے دے گی۔ وہ دیکھتا رہتا تھا کہ وہ روزانہ اس کی بیوی سے کھسر پھسر کرتی رہتی۔ باپ نے اپنی بیوی کو ابرار کی بیوی کے بارے میں کئی بار سمجھانے کی کوشش کی

  تم نعیمہ کی باتوں کا یقین نہ کیا کرو وہ لگائی بجائی کرتی ہے۔ 

امان کی بیوی بہت اچھی ہے صرف اسے باتیں بنانا نہیں آتی مگر بھولی بیوی نہ مانتی ۔ 

وہ اب بھی کبھی اکیلے میں امان کو یاد کرتی اور روتی۔ باپ نے سوچا امان ماں باپ سے دور رہ کر پریشان ہو گا، اسے سمجھا دوں اور اس پر حقیقت بھی واضع کر دوں۔   ایک دن وہ امان کے گھر آنے سے کچھ پہلے اس کے گھر چلا گیا۔

امان کی بیوی سسر کو دیکھ کر حیران رہ گئی پھر جب شفقت سے سر پر ہاتھ رکھا تو ناراضگی بھول کر خوش ہوگئی اور انہیں گلہ کرنے لگی

  آپ نے تو ہمیں اپنے گھر سے نکال دیا اور ہمارے ساتھ رہنے بھی نہ آئے۔

امان کے والد مسکرا دیے۔ اتنے میں امان گھر میں داخل ہوا اور بیوی کی بات سن کر حیران ہوا کہ بھابھی تو کہتی تھی یہ خود ہی انہیں رکھنا نہیں چاہتی تھی مگر یہ تو گلے کر رہی ہے۔ والد کو دیکھ کر آہستہ سے سلام کیا اور ناراض شکل بنا کر اندر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ باپ ہلکا سا مسکرایا۔ بیوی امان کے پیچھے آئی اور سمجھانے لگی۔ امان باپ سے بہت پیار کرتا تھا اور انہیں دیکھ کر اندر خوشی بھی ہو رہی تھی۔ پھر باپ خود کھانس کر اندر آ گیا اور پاس بیٹھ گیا۔ پھر امان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا

میں نے یہ سب ڈرامہ کیا تھا اگر نہ کرتا تو تم ہم سب کو جو اس نئے گھر میں لے جانے کا جو تہیہ کیے بیٹھے تھے کبھی نہ ٹلتے۔ سب کو یہاں لانے میں عقلمندی نہیں ہے حالانکہ اس میں ابرار کا فائدہ ہے کہ اسے یہ آبائی گھر مل رہا ہے اور دوسرے تم اسے سست بنانا چاہتے ہو۔ ابھی وہ گھر میں خرچے کا ایک آنہ نہیں دیتا۔ اس پر ذمہ داری تب پڑے گی جب ہم نہ رہیں گے۔

امان نے یک دم اٹھ کر باپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ باپ نے مسکراتے ہوئے کہا 

بیٹا یہ قدرت کا قانون ہے کہ والدین سدا ساتھ نہیں رہتے۔ بچوں کو جدا ہونا پڑتا ہے۔ بیٹی کو پرائے گھر اور بیٹے کو روزگار کے سلسلے میں دور جانا پڑتا ہے۔ میں صرف تمہاری ماں کی وجہ سے ادھر آیا ہوں۔ تمہاری بیوی بہت اچھی ہے۔ اس کی قدر کرو اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ اگر اچھا نہیں کر سکتے تو کم از کم برا بھی نہ کرو۔ ایک دن تمہیں اس کی قدر ضرور آئے گی۔ اچھی بیوی خدا کی نعمت ہوتی ہے۔ 

پھر وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس کھڑے ہو گئے اور دوبارہ گویا ہوئے 

تم ابھی تک ابرار کی بیوی کو پہچان نہیں پائے ہو۔ اپنی آنکھیں کھولو۔ اب تم جاؤ ماں سے ملو اور اسے بےشک گھر بھی لاؤ مگر وہ رات کو اپنے گھر ہی سوئے گی۔  

امان نے روہانسہ ہوکر کہا

کیوں بابا۔ 

اس کے والد ایک توقف کے بعد بولے

 بیٹا اس میں سب کی بھلائی ہے۔ وہ تم سے بھی بہت پیار کرتی ہے مگر جو بچے ذرا پیچھے رہ جاتے ہیں، ماں باپ دونوں اس سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ ماں کو غلط نہ سمجھنا اور کسی کی باتوں میں آکر اپنا گھر خراب نہ کرنا۔ گھر میں اچھا ماحول رکھو۔ چند دنوں کی یہ زندگی انسان کو خوش رہ کر گزارنی چاہیے۔ لڑنے جھگڑنے سے انسان خود ہی بے سکون رہنا ہے۔ اپنی بیوی سے ہنسنا بولنا، اس کی دلجوئی کرنا صدقہ ہے اور نفل نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔

امان کے والد کے آنے سے وہاں سب کا آنے جانے کا راستہ کھل گیا۔ امان ادھر آیا اور ابرار اس کو مبارک دینے گیا۔ بھابھی نعیمہ نے ان کو نئے گھر کا بڑا تحفہ بھی دیا۔ امان بہت خوش ہوا مگر اس کا والد سمجھتا تھا کہ بہو ایک کے سو وصول کرے گی۔ وہ موقع سے فائدہ اٹھانا جانتی ہے۔ اس نے امان کے گھر بہت زیادہ جانے سے روکا جس کا امان کی بیوی نے دل میں بہت شکر ادا کیا کیونکہ اسے بھابھی نعیمہ کی قہر بھری آنکھوں سے الجھن ہوتی تھی۔ اس کا پیر بھی بھاری تھا اور اسے اب کی بار بچے کے زندہ رہ جانے پر بہت ڈر تھا۔



Continue Reading
Episode 4
سازش

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry