Logo
Back to Novel
Intzaar Taweel Tha
Episodes
Intzaar Taweel Tha

انتظار طویل تھا 1

From Intzaar Taweel Tha - Episode 1

بسمل بیٹی زرا باہر کا دھیان رکھنا دروازہ بجتا نہ رہے گھنٹی نہیں ہے مہمان کھڑے نہ رہیں،

بسمل جی اماں،

بسمل شوخی سے بولی اماں سارم مجھے فون کر دے گا جب وہ لوگ آئیں گے،

فریال اسے چھڑتے ہوئے میری پٹاخہ بہن اب ان لوگوں سے اچھی طرح سے تمیز سے پیش آنا ان کی خالہ پسند کر لیں،

بسمل بڑے اکڑ کے انداز میں کالر کو پکڑ کر بولی، میری پیاری آپا جانی، میں سارم کو پسند ہوں تو پھر کیا مسئلہ ہے جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی مطلب خالہ وہ تو عارضی پاکستان آتی جاتی ہیں وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوبئی رہتی ہیں اب سارم کی شادی کے لئے آئی ہوئی ہیں، جب سے اس کی ماں کی ڈیتھ ہوئی ہے گھر میں کوئی عورت نہیں ہے، بس باپ بیٹا ہیں،

ماں اسی لئے تو میں بھی دعائیں کرتی تھی کہ تیرے لئے کوئی مختصر فیملی ہو،

بسمل مختصر کہاں، سارم کے فادر جو ہیں نہ جانے کیسے ہیں کتنا تنگ کریں دیکھتی نہیں آپا کے سسر صاحب کتنا تنگ کرتے ہیں، میں تو سسر صاحب کی کوئی بوڑھی عورت سے شادی کروا دوں گی کوئی لاوارث سی عورت ملے جو کھبی جاے ہی نہ، مجھ سے نہیں سسر کی زمہ داری اٹھائی جاتی، میں نے تو سارم کو صاف کہہ دیا تھا کہ مجھ سے گھر کے کام نہیں ہوتے، اس نے سمجھایا تھا کہ کوئی مسئلہ نہیں ملازمہ رکھ دوں گا ویسے بھی فل ٹائم ملازمہ موجود ہے ان کے گھر میں،

فریال اماں دیکھ رہی ہیں اس کے پلان، وہ تو سارم پر اس کی خوبصورتی کی وجہ سے عشق کا بھوت سوار ہے ورنہ اس کی ان ہی عادتوں کی وجہ سے میری ساس نے میرے دیور کا رشتہ نہیں کیا،

بسمل برا مناتے ہوئے ارے میں نے اس لنگور سے کونسا کرنا تھا تمھاری ساس مجھے جانتی تھی کہ میں انکار کر دوں گی، اس لئے مجھے بدنام کر رہی ہے ورنہ اس نے مجھ سے اظہار محبت کیا تھا تو میں نے اس کی خوب بے عزتی کی تھی تب سے مجھے بدنام کر رہی ہے کہ بہت بد زبان ہے وغیرہ وغیرہ اور میں اس لیے اس کا رشتہ نہیں کر رہی،

ماں آہ بھر کر بیٹا اپنے رشتے دار ہیں دیکھے بھالے تھے تو مان جاتی تو تیری بہن کو بھی آسرا مل جاتا، باہر کے لوگوں کا کیا پتا ہوتا ہے، اب وہ اسی وجہ سے تیری بہن کو تنگ کرتے ہیں،دونوں بہنیں ایک گھر میں ہوتیں،

بسمل غصے سے، اماں میرا منہ نہ کھلوائیں آپ کی سگی بہن ہے نا اسی لئے آپ کو بیٹی پر ہونے والے ظلم نظر نہیں آتے، اب داماد کا فرض نہیں تھا کہ آج بیٹا بن کر آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا، آپا کو بھی کتنا لڑ جھگڑ کر منتیں کروا کر بھیجا ہے،

اماں فیور لیتے ہوئے بولی ارے تو نے اس کے بھائی کا انکار کیا ہے پھر وہ بھائی کی وجہ سے نہیں آیا ورنہ اسے ماں آنے دیتی، ماں کے خلاف تو نہیں جا سکتا نا،

بسمل تپ کر اماں پلیز ان لوگوں کی فیور لینا بند کر دیں کیا وہ میرے قابل تھا پہلے بھی آپ نے میٹرک پاس کے ساتھ میری ایم اے پڑھی بہن کو بیاہ دیا اب میں ایم بی اے کر کے اس ایف اے فیل سے تو نہیں کر سکتی نا کہ بس اپنے ہیں میری بہن ہے میرا بھانجا ہے، بہن تو لے کر جاتے ہی آپا کی روایتی ظالم ساس بن بیٹھی اور آپ مروت برت رہی ہیں، حد ہے ویسے بیٹی کے آنسو نظر نہیں آتے آپ کو بس بہن نظر آتی ہے،

آپا کیسے اس گھر میں رہتی ہو سچی میں تو ایک دن بھی ان لوگوں کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی، سب ہی نرالے ہیں،

اماں سانس بھر کر بولی شاید اسی لیے اللہ نے مجھے بے عزت ہونے سے بچا لیا تو جاتی تو کیا گل کھلاتی،

میں نے تو ان کو سیدھا کر کے رکھنا تھا یہ تو آپا ہی ڈرپوک ہیں جو صبر کر کے آنسو بہا کر بیٹھ جاتی ہیں،

اتنے میں بسمل کا موبائل بجا، بسمل چیج کر اماں آ گئے ہیں،

باہر دروازہ بجنے کی بھی آواز آتی ہے،

اماں بوکھلا کر کہتی ہیں میں دروازہ کھولتی ہوں، بسمل تم سر پر دوپٹہ اوڑھ کر طریقے سے جوس لے کر آنا،

اماں دروازہ کھولتی ہیں،

سامنے ایک قیمتی لباس میں ملبوس عمر رسیدہ سی عورت اور جوان لڑکا اور ایک درمیانی عمر کا شخص کھڑے ہوتے ہیں، مرد سلام کرتے ہیں اور عورت منہ سا بنا کر خاموشی سے اندر آتی ہے،

بسمل کی ماں انہیں ایک کمرے میں لے کر جاتی ہے جہاں پر ایک پرانا بیڈ اور دو کرسیاں جن پر کپڑے کے کور چڑھے ہوتے ہیں، ان پر بیٹھ جاتے ہیں عورت بیڈ کے کونے پر اکڑ کر بیٹھ جاتی ہے،

بسمل کی ماں عورت سے مخاطب ہو کر بہن آپ اوپر آرام سے بیڈ پر بیٹھ جاہیں،

عورت کمرے کا جاہزہ لیتے ہوئے نہیں میں ٹھیک ہوں، آپ بچی کو بلائیں ہم نے جلدی جانا ہے،

بسمل کی ماں مروت سے، بہن آپ لوگ پہلی بار آے ہیں چاے تو پی کر جانا،

لڑکے کا باپ شرمندہ ہو کر بولا جی بہن جی ضرور ہم چاے واے پی کر جائیں گے آپ فکر نہ کریں،

عورت نے ناگوار سی شکل بنا کر دیکھا،

اتنے میں بسمل جوس کی ٹرے لیکر مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی،

اس نے سب کو سلام کیا اور سارم کو دیکھ کر مسکرا دی وہ بھی مسکرانے لگا،

بسمل نے سب کو جوس پیش کیا،

وہ جانے لگی تو لڑکے کے والد نے پیار سے بسمل کو مخاطب کر کے کہا بیٹا بیٹھو باتیں وغیرہ کرو،

بسمل جی اچھا کہہ کر جھٹ سے بیٹھ گئ،

عورت اس کی خوبصورتی سے متاثر نظر آنے لگی،

سارم کے والد نے بسمل سے پوچھا ہاں بیٹا ہم لوگ کیسے لگے آپ کو؟

بسمل جی اچھے ہیں ایک ناگوار سی نظر عورت پر ڈال کر بولی،

پھر بولی ویسے انکل آپ تو مجھے سب سے زیادہ اچھے لگے ہیں، میں تو آپ کو کوئی بوڑھا سا سمجھ رہی تھی آپ تو بلکل ینگ سے ہیں،

سارم کے والد نے مسکرا کر ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھتے ہوئے شرما کر بولے بیٹا بوڑھا ہی تو ہوں ینگ کدھر ہوں بیٹا جوان ہے اس کا رشتہ کرنے آیا ہوں،

اتنے میں فریال اندر داخل ہوئی اور سب کو سلام کیا عورت کے پاس آئی تو اس نے اکڑ کر ہلکہ سا ہاتھ ٹچ کیا،

بسمل نے ناگواری سے دیکھا جبکہ فریال ماں سے پوچھنے لگی اماں کھانا تیار ہے،

ماں نے کہا جاو لے آو ٹھنڈا ہو جائے گا،

لڑکے کے باپ نے فریال کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا شاید آپ نے مجھے پہچانا نہیں آپ میری اسٹوڈنٹ تھیں،

فریال جی سر میں نے آتے ہوئے آپ کو دیکھ لیا تھا، آپ سر جاوید ہیں نا،

جاوید صاحب بولے اگر آپ نے پہچان لیا تھا تو بتایا نہیں،

فریال خاموش رہی،

فریال بولی سر واہوہ آپ آپی کے سر ہیں آپی نے پہچانا تو ہو گا مگر بات نہیں کر سکتی کیونکہ ان کے شوہر بہت شکی مزاج اور سخت قسم کے ہیں،

ماں نے غصے سے آنکھیں دکھائیں،

فریال معزرت کرتے ہوئے کھانا لینے چل پڑی،

کھانا بہت مزے کا تھا اور جاوید صاحب اور سارم نے بہت تعریف کی جبکہ خالہ مزے سے کھاتی رہی،

جاوید صاحب نے کھانے کے بعد ہاتھ دھونے اٹھے تو صہن میں بنے واش بیسن میں وہ ہاتھ دھونے لگے،

ماں نے فریال کو تولیا لانے کا کہا،

فریال جاوید صاحب کو تولیہ پکڑا رہی تھی جاوید صاحب نے ہنس کر پکڑتے ہوئے شکریہ ادا کیا اتنے میں فریال کا شوہر اندر داخل ہوا اور فریال کو تولیا پکڑاتے دیکھ کر غصے سے دیکھنے لگا اور اسے کمرے میں آنے کا کہہ کر کمرے میں چلا گیا،

فریال کے اسے دیکھتے ہی پسینے چھوٹ گیے ماں سامنے کھڑی دیکھ رہی تھی،

جاوید صاحب خاموشی سے اندر چلے آئے،

بسمل نے دیکھا فریال کا شوہر غصے سے اندر گیا ہے اور ماں بھی کمرے میں چلی گئی ہے تو پریشانی سے مہمانوں کو دیکھنے لگی،

خالہ بور ہو چکی تھی بولی چلو چلیں،

جاوید صاحب بولے بس آنٹی آ جائیں تو چلتے ہیں،

بسمل جلدی سے بولی چاے پی کر جاہے گا، میں چاے اچھی بناتی ہوں آپی اور اماں شوق سے پیتی ہیں،

خالہ نے طنز کیا کچھ اور بھی آتا ہے کیا صرف باتیں ہی کرنی آتی ہیں،

بسمل جی مجھے کھانا وغیرہ بنانا نہیں آتا سچ بتا رہی ہوں،

خالہ لو اور سنو، صرف کھانا آتا ہے،

جاوید صاحب بولے کوئی بات نہیں بیٹا آپ نے سچ بولا ہے تو مجھے خوشی ہوئی ہے،

بسمل انکل یہ سویٹ ڈش میں نے نیٹ سے ریسپی دیکھ کر بنائی تھی اچھی تھی نا،

جاوید صاحب نے کہا بہت مزے کی تھی،

سارم بہت لاجواب تھی،

خالہ تمہیں بس سویٹ ڈش ہی بنا کر کھلاتی رہے گی،اور تو کچھ آتا نہیں اسے،

بسمل جی نہیں آنٹی جی نیٹ کھولو اور دنیا کی جو ڈش بنانا چاہو بنا لو، اور انشاءاللہ سب کچھ بنا لوں گی آپ میری فکر نہ کریں،

بسمل کی ماں کمرے میں آئی اور ایسا کچھ کہا کہ بسمل سمیت سب کے منہ کھلے رہ گئے،

جاری ہے،

#رائٹر_عابدہ_زی_شیریں،

شعر،

رب کسی کو کھبی اپنوں سے جدائی کا غم نہ دے

پیاروں کی جدائی زندگی کو مثل شمع بنا دیتی ہے،

#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books